کوئٹہ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی ترجمان انور بلوچ نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پارٹی کا مرکزی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی عوامی نے ہر دور میں بلوچستان اور ملک بھر میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھی ہے۔
پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
لاپتہ افراد کے لواحقین دہائیوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ زہری نے ہمیشہ اصولی موقف اپنایا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی سیاسی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ پارٹی کی پوزیشن ہمیشہ واضح اور دو ٹوک رہی ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش کو کم کیا جا سکے۔
پارٹی کے بیان میں کہا ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مایوسی اور بداعتمادی سے بچایا جا سکے۔
بلوچستان سمیت ملک بھر میں جاری ماورائے آئین اور ماورائے عدالت اقدامات انسانی حقوق، آئین پاکستان، اور اقوام متحدہ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
*پارٹی کے بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔*
بی این پی عوامی نے ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر قانونی فورم پر لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ یہ عمل نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں بحران پیدا کر رہا ہےاور طاقت کے استعمال سے معاملات مزید بگڑ رہے ہیں۔
