شال : بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5075 دن ہوگے،کیمپ میں اظہار یکجتی کرنے والوں میں بی ایس او پجار نوشکی کے سید حق نواز شاہ، قدیر بلوچ مشتاق بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ قوموں سے کچھ ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جن سے انکے قومی شناخت خطرے میں پڑھ چکی ہے مورخ یقیناً نوشتہ کریں گے کہ بلوچ بھی ایک قوم تھا جو اپنی انا ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے روبہ زوال ہوا۔
ماما قدیر بلوچ نےکہا کہ ہم نے ہمیشہ پرامن جدجہد اور منزل کو پانے میں کامیاب رہیں۔ کیونکہ ہم ہر گام پہ پابت قدم رہے ہمارے بھی آپسی اختلافات تھے پر ہم اس انداز سے ایک دوسرے کو موردالزام نہیں ٹھراتے تھے جیسا آج کل تم ایک دوسرے پر کیچھڑ اچال رہے ہو تم لوگوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ منزل چار گام کے فاصلے پر ہے لیکن آج تم لوگ اپنے بچگانہ عمل کی وجہ سے منزل کو ہزاروں کوس دورے جا رہے ہو۔ اگر تمہاری روش یہی ہے تو تمہاری حرکتیں دیکھ کر انے واکی نسلیں ہمیں بھی تم جیسا نہ کہیں یہ سوچ کر ہماری روح بھی کامپ اٹھتی ہےاور اگر ہمارا مقلد بنتا ہے تو تمہیں ہماری ڈگ پر چلنا ہوگا۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اے عظیم انسان ایسا مت کہو ہم تو نادان ہیں اور نادانی میں ہم سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ پر چند نادان لوگوں کی غلطیوں کی سزا آپ ہماری محکوم قوم کو نہ دیں اگر ہم گزرے ہوئے عظیم شخصیات پہ فخر نہیں کریں گیں اُن پہ نازاں نہ ہوںگے تو بھلا وہ کون ہے جس کے ہم گیت گنگنائیں گیں۔ ہماری میراث تو آپ کوگوں کی تعلیمات ہیں۔ اور اگر ہم آپ کی تعلیمات سے مستفید نہ ہونگے تو یقیناً ہمارے قوم تاریکیوں میں ڈوب جائیگا.
