یہ پہلی بار نہیں ہے کہ زمان کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ہے ، اس سے پہلے بھی انھیں بھائی سمیت سکیورٹی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیاتھا، اہلخانہ کی پریس کانفرنس



کراچی : سکیورٹی اداروں اور عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کی جانب سے شنوائی نہ ہونے کے باعث آج آپ کے توسط سے اپنا کیس میڈیا پر لا رہے ہیں۔ یہ بات  تربت سے جبری طور لاپتہ ہوئے زمان بلوچ ولد سپاھان کے خاندان والوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر کے ساتھ مل کر  کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس دوران کہی ہے ۔ 


 انھوں نے کہاکہ زمان ولد سپاھان جو کہ کیچ کے علاقے بالگتر کے رہائشی ہیں ، کو  10 فروری 2023  بروز جمعہ کو تربت بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور دو دن گزرنے کے بعد بھی تاحال اُن کا کوئی سراغ نہیں  مل پارہاہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں ۔ 

انھوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ 

  جب سے زمان لاپتہ ہیں ہم خاندان والے  تکلیف دہ  حالت  سے گزر رہے ہیں اور اُن کی راہ تک رہے ہیں۔


انھوں نے پریس کانفرنس دوران کہاکہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ زمان کو جبری طور گمشدہ کیا گیا ہے ،  اس سے پہلے بھی زمان بلوچ اور اس کے بھائی ماجد بلوچ کو 9 جون 2020 کو سکیورٹی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیاتھا،

جنھیں چھ ماہ شدید تشدد کا شکار بنانے کے بعد رہا کیا گیا ۔


انھوں نے کہاکہ سکیورٹی ادارے مسلسل ہمارے خاندان کو ہراساں کر رہے ہیں اور ہمارے خاندان کے افراد کو ٹارگٹ کرتے ہوئے جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنا  رہے ہیں۔ جمعہ کے روز زمان کو جبری گمشدگی کا شکار بنانے کے بعد سکیورٹی اداروں نے ایک بار پھر ہمارے گھروں کی چادر و چار دیواری کی پامالی کی ، عورتوں اور بچوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ،جب کہ قیمتی آشیاء  کو  توڑ اگیا ۔سکیورٹی اہلکاروں نے نہ صرف ہمیں زدو کوب کیا بلکہ یہ دھمکی بھی دی کہ آنے والے وقت میں ان کے عورتوں کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا جائے گا۔ 


لاپتہ ماجد کے اہلخانہ نے کہاکہ  سیکیورٹی ادارے ہمارے خاندان والوں  کو عرصہ دراز سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے تنگ کر رہے ہیں  , پانچ روز قبل ہمارے ایک فیملی ممبر کو تربت بازار میں ایف سی نے گاڑی سے ٹکر مار کر گرانے کے بعد بھی  شدید تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ موٹرسائیکل پر جارہے تھے ۔ 


انھوں نے کہاکہ ہم  نہتے ،  جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ  اور  شہری ہیں ، لیکن اس کے باوجود ہمیں معلوم نہیں کہ  سکیورٹی ادارےمسلسل  کس گناہ کے تحت ہمیں سزا دے رہے ہیں۔


انھوں نے کہاکہ حکومت سے ہم  اپنے خاندان کی حفاظت چاہتے ہیں۔ زمان بلوچ کی زندگی کے حوالے سے ہمیں شدید خطرات لاحق ہیں، لہذا سکیورٹی ادارے انسانی ہمدردی کے تحت زمان بلوچ کو بازیاب کریں۔


 ہم پریس کانفرنس  زریعے تمام مقتدر قوتوں اور سکیورٹی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو مزید ہراساں کرنا بند کیا جائے اور تمام تر ظلم و جبر کا نوٹس لیں،  بصورت دیگر ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post