کیچ اسکول جلائے جانے خلاف عوامی جرگہ کا انعقاد کیاگیا ، کمیٹی تشکیل دی گئی

کلکشان سکول الندور بلیدہ کو جلائے جانے خلاف علاقہ عمائدیں پرائیوٹ سکولز کے سربراہاں کا ایک مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس میں سکول کو جلائے جانے کی پُر زور مذمت کی گئی اور واقع میں ملوث نادیدہ قوتوں کو بے نقاب کرنے کا عہد کیا گیا۔ جرگہ میں علاقے کے عوام مخلتف سیاسی و سماجی شخصیات علاقہ عمائدیں اور تمام طبقہ فکر لوگوں نے شرکت کی ۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ وہ بلیدہ زامران کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے بلکہ مشترکہ عہد کرتے ہیں کہ ایسے مزموم عزائم کے پیچھے کوئی بھی ہاتھ ہو انکو بے نقاب کرکے اپنا فرض پورا کریں گے تاکہ آئندہ کوئی بھی جرائم پیشہ عناصر اپنی منفی سرگرمیوں سماجی برائیوں کو دوام دینے اور تعلیم جیسے مقدس پیشے پر حملہ آور ہونے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لیں کہ علاقہ کی پرُامن اور بھائی چارگی کے ماحول میں کسی مجرمانہ عمل کی گنجائش نہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اگر کوئی اپنے سماج دشمن سرگرمیوں کو جاری رکھ کر علاقے میں بدامنی افراتفری کا چوری چکاری کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو علاقہ عوام مشترکہ طور پر ایسے عوامل کی روک تھام اور انہیں معاشرے کے بدترین گھناؤنی عمل شمار کرکے ایسے سماجی عناصر کو سرکوبی کرنی کی سرتھوڑ کوشش کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کو جرائم پیشہ گروہ اور منفی سرگومیوں سے پاک کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور بلیدہ زامران کو انکے رحم و کرم پر چھوڑنا باعث شرمندگی ہے ، ایسے گھناؤنی عمل کی حوصلہ شکنی کرکے انکے سدباب کرنا بہت ضروری ہے ۔ جرگے کے آخر میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کوارڈینیٹر کلکشان سکول کے سربراہ عارف بلوچ اور کمیٹی کے چیرمین رھشون سکول کے ڈاریکٹر شاہ فیصل بلوچ اور دیگر ممبران مقرر کۓگئے جوکہ اس واقع کی تحقیقات کرے گی اور سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کا بھی ذمہدار ہونگے ۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کا نہیں بلکہ یہ ہمارا معاشرتی اور مشترکہ مسئلہ ہے اگر اس کو سردخانے میں رکھ کر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی تو ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید اپنے مزموم عناصر کو تقویت دینے کیلئے سرگرم ہونگے ، ہم سب کو ملکر سماج دشمن عناصر پر نظر رکھنے اور انکی سرکوبی کیلے اشد محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post