کیچ تربت میں بلوچستان سول سوسائیٹی کی طرف سے نشتر ہسپتال ملتان سے ملنے والی سینکڑوں مبینہ بلوچ لاپتہ افراد کی نعشوں اور سی ٹی ڈی کی جعلی مقابلوں میں لاپتہ تابش بلوچ ، سلال بلوچ ، فرید بادینی بلوچ اور دیگر بلوچوں کے قتل کے خلاف تربت عطا شاد ڈگری کالج سے فدا شہید چوک تک منگل کی صبح ایک ریلی نکالی گئی۔
ریلی کی قیادت سول سوسائٹی کے کو آرڈینیٹر گلزار دوست بلوچ نے کی۔
ریلی جب شہید فدا بلوچ چوک پہنچی تو ایک جلسہ عام کی شکل اختیار کرلی اس موقع پر سول سوسائٹی کے کوآرڈینٹر گلزار دوست، سنگت رئیس منظور بلوچ ، سدیر بلوچ اور سلمان بلوچ نے کہا نے خطاب کیا ۔
مقررین نے کہاہے نشتر ہسپتال ملتان سے حالیہ دنوں دلدھلانے والے واقع میں سینکڑوں نعشیں ہسپتال کے چھت سے ملیں ہیں ،ان میں سے زیادہ تر نعشیں جبری لاپتہ بلوچ افراد کی ہیں کیوں کہ وہ اپنے تقافتی بڑےشلوار ،جوتوں اور حلیہ سے پہنچانے جاتے تھے ۔
انھوں نے کہاکہ ان بلوچ فرزندوں کو بلوچستان سے مختلف اوقات میں فورسز ،خفیہ اداروں اور انکے پالے ہوئے مقامی ایجنٹوں نے ،
سیاست ،ذاتی رنجشوں بہتاموں
،زمینوں کے تنازعات اور بلوچ ہونے کے ناطے جبری اغوا کرکے لاپتہ کردیا گیا تھا، جہاں انھیں اذیت دینے بعد انکے جسم کے اعضاء نکال کر انھیں ھلاک کرکے ،بے دردی سے چھتوں پر پھینک کر چیل،گدھوں اور کیڑوں کے نذر کردیاگیا ، جو انتہائی دلخراش اور افسوس ناک واقع ہے ۔
انھوں نے کہاکہ قابض لٹیرے مقتدرہ ہمارے معدنیات ،سیندک
،ریکوڈک ،دل بند سے سونا ،سنگ مر مر کی شکل چمالنگ سے کوئلہ سوئی سے گیس ،حب سے حبکو پاور پلانٹ ،گوادر سے مفت کی سرمایہ کاری ، جیونی،پسنی اورماڑھ، کنڈملیر،ڈام، اور گڈانی کی سمندر سے مچھلیوں کی شکل میں لوٹ کر بیچتے آرہے ہیں ،مگر اب بلوچ لاپتہ افراد کے جسم کے اعضا بیچ کر کھانے لگے ہیں ، جو غیر انسانیت کی آخری حد ہے ، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
مقررین نے گذشتہ دن مستونگ کلی کابو اور خاران میں کاونٹرز ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جبری لاپتہ دس افراد کے جعلی مقابلے شہید کئے جانے کی بھی مذمت کی اور کہاکہ ملتان واقع بعد ہونا یہ چاہئے تھا کہ فورسز اور بے حس معاشرہ ڈوب مرتی ، مگر وہ دیدہ دلیری سے ہمارے پیاروں کو اغوا کرکے سالوں اذیت دینے بعد جعلی مقابلوں میں مار کر اور بے حسی دکھا رہے ہیں کہ ہم کتنے بے حس مردہ ضمیر وحشی ، اور انسانیت سے گر ہوئے ہیں ۔
مقررین نے یو این او ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائیٹس واچ اور یورپی یونین سے درخواست کی کہ پاکستان میں بلوچوں کے قتل عام بند کروائیں اور لاپتہ بلوچ افراد کو پاکستانی بدنام زمانہ کھلی کیمپوں اور عقوبت خانوں سے بازیاب کروانے کے لیے دباؤ ڈالیں.
