ضلع کیچ کے موجودہ ڈپٹی کمشنر میجر بشیر بڑیچ کی کرپشن اور بارڈر پر تیل بردار گاڑیوں سے بھتہ خوری جنہیں کاروباری حلقوں میں لین کہا جاتا ہے ، کی انہونی کہانی سامنے آئی ہے جو انتہا حد تک ہوشربا ہے۔
گزشتہ روز ایک ریکارڈ ویڈیو میں زمیاد گاٰڑی کی ڈرائیور کو یہ انکشاف کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ اسے ڈپٹی کمشنر کیچ کے لین سے 38 ہزار روپے کے عوض ٹوکن دیا گیا ہے ۔
ویڈیو میں زمیاد ڈرائیور سے مخاطب شخص کو تنبیہ کرتے سنا جاسکتا ہے جس میں وہ گاڑی مالکان کو کہہ رہے کہ ہیں کہ اگر کسی نے لین کے زیعے ڈی سی کو بھتہ نہیں دیکر بارڈر پر آنے کی کوشش کی تو ان کے تیل چھین لیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر کے ایک اہم سورس کے مطابق ان کے ماتحت تمام افسران کو روزانہ ایک کوڈ نام سے مقررہ تعداد میں ٹوکن دیئے جاتے ہیں ، جنہیں بیچ کر ڈی سی کو ان کا بھتہ دیا جاتا ہے مثلا تحصیل دار کا کوڈ قاضی ہے اور اس کوڈ کو روزانہ پچاس ٹوکن دیئے جاتے ہیں، جنہیں وہ لیویز اہلکاروں کے زریعے فروخت کرتے ہیں اور اس میں فی ٹوکن ڈی سی کو 20 سے 30 یا کم اور زیادہ بھتہ ملتا ہے۔
اس کے ساتھ روزانہ 200 ٹوکن خفیہ اداروں کو دیئے جاتے ہیں جنہیں وہ اپنے مقامی سورسز کو بطور معاوضہ یا تحفہ تقسیم کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر آفس کے ایک زمہ دار آفیسر کے مطابق صرف ایک رات میں ڈپٹی کمشنر لین کے زریعے 30 تا 50 لاکھ روپے کماتے ہیں اس کا انحصار تیل کی گرتی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہوتا ہے۔
اسی افیسر کے مطابق ڈی سی کیچ معمول کی لسٹ کے ساتھ ساتھ روزانہ 500 اضافی گاڑیاں لین کرتے ہیں جن میں ان کو فی گاڑی 25 سے 40 ہزار روپے ملتے ہیں ۔
اگر اس حساب سے ریکھا جائِے تو روزانہ صرف بارڈر پر لین کے زریعے ان کی کمائی 1 کروڈ سے ڈھائی کروڈ کے درمیان بنتی ہے، اس افسر کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے لین کے لیے لیویز کے چند اہلکار اور کچھ پرائیوٹ بندے رکھے ہوئے ہیں ،جبکہ ڈی سی آفس کا ایک ماتحت اہلکار جن کی ڈیوٹی کہیں اور لگی ہے ان سب سے حساب کتاب لیتا ہے۔
اس آفیسر کے مطابق دوسری جانب ہر شب لیویز فورس کو منشیات فروشوں کو لیویز فورس کی سیکیورٹی میں منشیات اسمگل کرنے کے عوض 2 کروڑ روپے کا بھتہ ملتاہے ۔
ان کے مطابق منشیات فروش لیویز کی سیکیورٹی میں منشیات ضلع کیچ کی حدود سے باہر اسمگل کرتے ہیں، ان کے مطابق ایک شب بھتہ دیئے بغیر دو کروزر گاڑیوں کو مال سمیت لیویز نے ہوشاپ کے علاقے میں پکڑلیں جنہیں ڈی سی کی ہدایت پر رات تین بجے ڈی سی ہاؤس لایا گیا اور یہاں پر دونوں گاڑیوں کو 5 کروڈ لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
کاروباری حلقوں کے مطابق موجودہ ڈی سی کیچ نے بارڈر کاروبار کو بھتہ خوری کے زریعے تباہ کردیا ہے عام گاڑی مالکان کو سخت خسارے کا سامنا ہے ،جبکہ مافیا اور ڈی سی کیچ دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔
ذرائع کے مطابق میجر بشیر بڑیچ سے پہلے کسی انتظامی افسر نے اس طرح کی کرپشن کی نا ہی اتنے پیمانے پر گاڑیوں کو لین کرکے بھتہ لیا تھا،
ایسا پہلی بار ہورہا ہے جب روزانہ کی بنیاد پر 5 سو گاڑیاں ڈی سی کی لین کے نام پر فی گاڑ ی 25 ھزار سے 40 ھزار دے کر بارڈر سے گزارا جاتاہے ۔
