بلوچ جبری لاپتہ افراد شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4758 دن ہوگے ہیں ۔
اظہار یکجتی کرنے والوں میں این ڈی پی کے سی سی ممبر غنی، نزر مری ، سلمان بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہاریکجتی کی ۔
وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز
(وی بی ایم پی) کے چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ انسانی تاریخ اس امرکی گواہ ہے کہ دنیا کسی بھی خطے میں ظلم جبر کے خلاف اٹھی حق کی آواز کو قتل وغارت ظلم جبر سے نہیں دبایاجاسکتاہے اور نہ ہی ختم کیا جاسکا ۔
انھوں نے کہاکہ ہمیشہ قابض ظلم نے مظالم پر امن جہد کرنے والوں کے خلاف تشدد جبر کے ساتھ انہیں غلام رکھنے کیلے اپنے تمام تر حربے اور وساہل کا استمال کیا ہے۔ یہی صورتحال روز اول سے بلوچ کے ساتھ بھی چلا آرہاہے ۔
ماما قرید بلوچ بے کہاہے کہ بلوچوں کے بعد اب پشتونوں کے علاقہ ہرناہی میں بھی کہی مہینوں سے آپریشن ہو رہاہے، پشتونوں کو جبری اغوا کرنا اور ان کے گھروں کو نزرآتش کرنا معمول بنا دیاگیاہے ۔
انھوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ آہیں بلوچ پشتون ملکر ان تمام غلامی کے زنجیروں کو تھوڑتے ہوئے، پرامن جدجہد کے اس کاروان کا حصہ بنیں ۔
انھوں نے کہاکہ قابض پاکستانی دلالوں کو آگے کرنے کا مطلب سرزمین شہیدوں کے لہو سے دغا ہے اور خود کو مزید غلامی کی دلدل میں دھکیناہے سوچھنے کا وقت کہ آج بلوچ پشتون قابض ریاستی تشدد کا شکار ہے ، کسی کا بھائی کسی کا بیٹا کسی کا والد شہید ہوا ہے یا پھر ریاستی عقوبت خانون میں تشدد سہ رہا ہے ۔
ماما نے کہاکہ آج ہر بلوچ پشتون کو ریاستی تشدد ظلم جبر کا سامنا ہےایسی صورت میں نام نہاد لیڈروں سے ہوشیار رہنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہربلوچ کا فرض ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جبر لاپتہ فرزندوں کے لواحقین کی حال پرسی کریں کہ ان کے فرزند ایک عظیم قومی مقصد کیلے آج پاکستانی خفیہ اداروں کے زندانوں میں تشدد سہہ رہے ہںں ۔ انکے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجتی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی عقوبت خانوں میں بلوچ فرزندوں اور انکے خاندان والوں کے غم دکھ کو اپنا سمجھ کر پرامن جدجہد میں شامل ہوجانا چاہئے کیوں کہ قومی یکجتی اتفاق کسی بھی عمل کے اہم ستون ہوتے ہیں۔
