اسلام آباد: تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے حالیہ دنوں میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی اور مولوی عقابی باجوڑی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مذکورہ تنظیم کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا عمرخالد خراسانی تنظیم کے بانیوں میں سےایک تھے اور اس وقت ٹی ٹی پی کی رہبری شوریٰ کی رکنیت کےساتھ ساتھ مذاکراتی ٹیم اور اعلامی کمیشن میں بنیادی کردار اداء کرنے والے شخصیت تھے۔اور اس سلسلے میں موصوف نے فرضی لکیر (ڈیورنڈلائن) کے آس پاس نقل وحرکت کا سلسلہ بڑھایا تھا، جس کی وجہ سے موصوف 7اگست 2022 کو دشمن کی طرف سے ایک حملے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت قتل ہوئے۔
واضح رہے کہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقے مارغہ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سینیئر کمانڈر عبدالولی مہمند عرف عمر خالد خراسانی اتوار کی شام ایک بارودی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی گاڑی مارغہ سے قریبی ضلعے ارگون کے سفر کے دوران ایک بڑے دھماکہ کی زد میں آئی۔ ان کے داماد علی حسان مہمند اور دو سابق اہم کمانڈر مفتی حسن سواتی اور حافظ دولت خان اورکزئی بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
طالبان کے ترجمان محمد خراسانی سے اس سے قبل بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم مذکورہ اعلامیہ میں اس بات کا ذکر موجود نہیں کہ انھیں کہاں اور کن حالات میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
طالبان کے اعلامیہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو فرضی سرحد قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان کی جدوجہد فرضی سرحد کے اس طرف بھی کامیاب ہوگی، محمد خراسانی کے الفاظ ہیں ’ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ جس طرح اس مبارک قافلے کے مجاہدین نے فرضی لکیر کے اس طرف اسلام دشمن قوتوں کو شکست دی اسی طرح فرضی لکیر کے دوسری طرف بھی غدار، غلام اور ڈالر خور فوج کو شکست دیکر رہیں گے اور پیارے وطن کی پیاری زمین پر اسلامی نظام قائم کریں گے ۔‘
انھوں نے پاکستانی فوج پر فائربندی کے معاہدے کی خلاف وزری کا الزام لگاتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تین روز قبل بزدل دشمن نے ایک اور غدر وخیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائربندی کے دوران باجوڑ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے اور ولایت ملاکنڈ کے عسکری کمیشن کے رکن مولوی عقابی باجوڑی کو اپنے غلاموں کی وساطت سے ایسے حال میں قتل کیا کہ موصوف فجر کی نماز پڑھ کر گھرجارہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور خیبرپختونخوا کے قبائل کا افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام میں کلیدی کردار تھا۔بیان کے مطابق ’ طالبان کے افغان حکومت کو منظم کرنے اور اس کو اپنے پاؤں پر قائم کرنے میں آزاد قبائل اور پاکستانی طالبان کی جہادی اور انقلابی حرکت، تحریک طالبان پاکستان کا اساسی کردار ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین نے آزاد قبائل میں ایسا جہادی ماحول مہیا کیا، جس سے معاصر جہادی تحریک منظم ہوئی۔نتیجتاً امریکا اور نیٹو نے افغان سرزمین پر تاریخی شکست کھائی۔‘
اس بیان میں تحریک طالبان پاکستان کو ’غزوہ ہند‘ کا مبارک قافلہ قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
