شال( اسٹاف رپورٹرز سے )
بلوچ جبری لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4726 دن ہوگے۔
اظہار یکجتی کرنے والوں میں پی ٹی ایم شال کے آغا زبیر شاہ ولی کاکڑ اور دیگر عہدیداروں نے کمیپ آکر اظہار یکجتی کی.
وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ فرزندوں کے جبری اغوا اور لاپتہ بلوچ اسیران کے حراستی شہادت کے معاملے پر کام کرنے والی سرگرم تنظیم وی بی ایم پی نے اپنی مکمل اور جامع رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام محتدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بلوچستان میں فوری مداخلت کی اپیل کردی کہ بلوچستان آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاری ہے.
انھوں نے کہا ہے کہ 2001 سے لیکر اب تک مجموعی طور پر 20000 بیس سے زاہد جبری لاپتہ بلوچ اسیران کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں چھ ماہ کے دوران 63 لاپتہ اسیران کا حراستی شہادت نادانستہ یا اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک انتہائ مضبوط اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ اسیران کی حراستی شہادت کے ان واقعات میں پاکستانی پارلمنٹ پاکستان کی عکسری قوت سیاسی قوتیں اور پاکستانی عدلیہ کہیں بلواستہ کہیں بلواسط ملوث ہیں ۔
ماماقدیر بلوچ نے کہا کہ انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی سرگرم اداروں متاثرہ خاندانوں عینی شاہدین بلوچ سیاسی جماعتوں سول سوئساٹی قابل اعتماد ذرائع تصدیق شدہ میڈیارپورٹس اور بلوچ عوام کئ مدد تعاون سے جمع کردہ حقائق معلومات سے اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ بلوچستان بھر سے ملنے والی تمام مسخ شدہ لاشیں ان بلوچ جبری لاپتہ اسیران کی ہیں۔
جنہیں پاکستانی خفیہ ایجنسیاں اور ایف سی' سی ٹی ڈی شہادت سے پہلے مختلف علاقوں جبری اغوا کے غائب کر دیتی ہے اور بعدازاں ان جبری اغوا شدہ بلوچوں کی انتہائ تشدہ زدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ جنہیں فوجی اذیت گاہوں میں شدید جسمانی ٹارچر اور الیکٹرک شاکئیں دینے کے بعد نیم مردہ حالت میں کن پٹی سر سینے اور آنکھوں پر گولیاں مارکر بے دردی سے شید کیا جارہے۔
انھوں نے کہاکہ حراستی شہادت کا نشانہ بننے والوں' جو نعشیں شناخت ہو کر تدفین کر دی گیں ہیں ان میں سے بیشتر افراد کے ہاتھوں پر ہتھکڑیوں سے جھکڑنے کے نشانات کے ساتھ ساتھ سیگریٹ سے جلانے کے داغ آنکھوں پر بے ،خوابی کے علامات رگوں پر بجلی کے کرنٹ کے واضح شواہد موجود تھے اور بعض شہدا کی جسموں پر خنجر گھو نپنے کے گہرے زخم بھی پائے گئے ہیں.
