مشکے ( اسٹاف رپورٹرز سے )
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے سینئر رکن حاجی لال بخش بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اب اتنی حواس باختہ ہوچکی ہے کہ وہ خواتین اور بچوں پر حملہ آور ہو کر اپنی بزدلی کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہے. بی بی زہرہ بلوچ پر حملہ پاکستانی فوج کی حواس باختگی کا مظہر ہے۔
انھوں نے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ اس ریاست کے عسکری اداروں نے بلوچ خواتین کو نشانہ بنایا ہے بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان کے عسکری ادارے بلوچ خواتین پر حملہ آور ہوئی ہے۔
انہوں نے مذید کہا کہ بی بی زہرہ کے شوہر رضا جہانگیر کو پاکستانی فوج نے تربت میں شہید کیا جبکہ ان کے سسر بختیار بلوچ کو بھی شہید کیا ہے اور اب ایک خواتین پر حملہ کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہی ہے۔
انھوں نے کہاکہ یہ سب واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور اسکے ادارے مستقبل میں بلوچ خواتین کو نشانہ بنا کر انہی سیاسی و تعلیمی سرگرمیوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ خواتین گھر کی چار دیواری میں مقید ہو کر اپنے قومی فرائض سے غافل ہو اور پاکستان کا یہ ناجائز قبضہ بلوچ وطن پر برقرار رہے.
انہوں نے بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین اور نوجوان اپنے قومی فرائض کو سمجھ کر اپنی زمہ داریاں سر انجام دیں، طالب علم سے لے کر پیشہ ور افراد اس قومی تحریک سے جڑ کر، اس نا انصافی کے خلاف یکجا ہو کر آواز بلند کریں تاکہ پاکستان کا آخری ستون جلد ہی بلوچستان سے زمین بوس ہوجائے ، اور بلوچستان ایک آزاد وطن کی صورت میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہو۔
