پوٹن یوکرین جنگ میں پھنس گئے ہیں، نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے،بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ لیکن امریکہ اپنے اتحادیوں سے اس مسئلے کے حل کے حوالے سے صلاح و مشورہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن کے نواح میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے خاصے فکر مند ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے پاس یوکرین کی جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ وہ پوٹن کے لیے کوئی راستہ نکالنے کے حوالے سے اپنے امریکی حلیفوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ پوٹن کو یہ غلط فہمی تھی کہ یوکرین پر حملہ نیٹو اور یورپی یونین کو توڑ دے گا۔ لیکن جو بھی ہوا وہ اس کے برعکس ہوا اور امریکہ اور بہت سے یورپی ممالک یوکرین کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ مارچ میں کییف پر حملے کے دوران روس کو یوکرین کی جانب سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ روس کو، جو اس حملے کو”خصوصی فوجی کارروائی“ قرار دیتا ہے، گزشتہ ماہ یوکرین کے مشرقی علاقے پر اپنی زبردست کارروائی کے لیے بڑی تعداد میں مزید فوجی بھیجنے پڑے تاہم اس کی پیش قدمی بہت سست روی سے جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا، ”پوٹن کافی حساب لگا کر کام کرنے والے آدمی ہیں اور اس وقت جس مسئلے کے بارے میں وہ پریشان ہیں وہ یہ ہے کہ ان کے پاس ابھی کوئی راستہ نہیں ہے اور میں یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔“ فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے دوسری عالمی جنگ میں نازی دستوں کی شکست دینے کی ستترویں سالگرہ کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی تقریر کو”طاقت، دھمکی اور جنگ“جیسے موقف کا مظاہرہ قرار دیا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ یورپ کو اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر روس اور یوکرین امن مذاکرات کرتے ہیں تو کسی فریق کی تذلیل نہ کی جائے

Post a Comment

Previous Post Next Post