بلوچی لبزانکی دیوان کوئٹہ کے زیر اہتمام ملک الشعراء میر گل خان نصیر کے یوم پیدائش پرہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر میر گل خان نصیر کی زندگی پر ایک کتاب ”میر گل خان نصیر:زندگی اور فن“ نام سے روشناس کرائی گئی۔
اس تقریب کی صدارت شمع پروین مگسی نے کی۔
تقریب میں مختلف شعراء اور ادیبوں نے اپنے مقالعے پیش کیئے۔
تقریب میں زندگی کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مشہور شاعر ادیب اور دانشوروں وحید ظہیر،آغا گل، ڈاکٹر عنبرین مینگل، نیشنل پارٹی رہنما جان بلیدی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جان بلیدی کا کہنا تھا کہ گل خان نصیر کی شاعری ادب اور دیگر چیزوں پر بہت بات ہو چکی اب ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی سیاست کو اجاگر کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ لوگوں کے لیئے گل خان نصیر ایک تاریخ دان، شاعر اور ادیب ہونگے لیکن ہماری نظر میں وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور قومی ہیرو ہیں۔
اس موقع پر تقریب کے منتظم یار جان بادینی نے گل خان نصیر کے خاندان سے التماس کی کہ ان کے کمروں اور زیر استعمال اشیاء کو محفوظ بنایا جائے۔ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے ایک میوزیم بنایا جائے ان کی جانب سے ایک قرار داد بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کلچرل ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی جانب سے دیئے گئے پیسے خرچ کرتے ہوئے میر گل خان نصیر کی کتابیں شائع کروائیں۔
جس پر تقریب کے شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔
تقریب کی آخر میں شمع پروین مگسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر صاحب ایک بہت بڑی شخصیت ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ان کے لیے میوزیم بنانے کے جو بھی اقدام کیا جائے گا۔ اس کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ گل خان نصیر خواتین کی تعلیم کے حق کے علمبردار تھے۔ان کی ہی کاوشوں سے آج بلوچستان کی بیٹیاں تعلیم کے میدان میں سب آگے ہیں ۔
