حکومت بلوچستان کی کھٹ پتلی فوجی ترجمان نے نورجان بلوچ بارے مضحقہ خیز اور توحین آمیز بیان کسی شرمندگی بغیر داغ دی ہے ۔ بلوچ حلقوں نے بیان کی سخت مذمت شروع کردی ہے

بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنے اصل مالکوں ( فوج ) جس کی ہاتھ بلوچ خون سے رنگیں ہیں ، ایک مضحقہ خیز اور بلوچ خواتین بارے انتہائی توحین آمیز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے ہوشاپ سے گرفتار خاتون نور جہان سے تحقیقات میں حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔ نور جہان بلوچ کو فنڈنگ دبئی سے فراہم کی جاتی تھی، مجید بریگیڈ خواتین کو خودکش حملوں کیلئے تیار کررہے ہیں۔ مطالعہ پاکستان( چھوٹ کی شہنشاہ کتاب ) کی پیاری طالبہ نے دعویٰ کیا کہ نور جہان کو مالی معاملات ندیم نامی شخص کے ذریعے دبئی سے بھیجے جارہے تھے۔ ان کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، باقاعدہ قانونی تقاضے مد نظر رکھتے ہوئے کارروائی کی گئی۔ اسلم عرف اچھو جو افغانستان میں مارا گیا اس کی اہلیہ نورجہان کارروائیوں کی سربراہی کررہی ہیں اور مزید خواتین کو تیار کیا جارہا ہے۔ فرح عظیم شاہ کے دعوے کے مطابق تحقیقات میں نور جہان نے وحیدہ، فہمیدہ اور حمیدہ کے نام بتائے ہیں۔ نور جہان بلوچ کیخلاف تھانہ مکران میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ مزید تفتیش کا سلسلہ شروع ہوا تو اس خاتون نے بہت سے انکشافات کیے۔ فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ بیرونی ہاتھ ہماری خواتین کو استعمال کررہے ہیں، بلوچ اس قسم کی کارروائی اور پھر خواتین کو استعمال کرنا، ہم نے کبھی بھی اس قسم کے واقعات نہیں دیکھے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بلوچستان میں غیرت مند بلوچ کی خواتین اس طرح کی کارروائیاں نہیں کرسکتیں۔ شرم کی بات ہے کہ ان واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں، بلوچ خواتین کو ان واقعات میں ملوث کیا جارہا ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جتنی بھی کالعدم تنظیمیں ہیں جن کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے کام کررہے ہیں جلد کارروائی کی جائے گی۔ چند ایسے لوگ ہیں جو بلوچستان اور پاکستان میں موجود بھی نہیں ہیں، کوئی یوکے میں بیٹھا ہے، کوئی خلیجی ملک میں بیٹھا اور وہاں سے وہ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ایسی خودار اور عزت دار قوم ہے جو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے جو اپنی خواتین کو ایسے کاموں کیلئے استعمال کریں۔ یہ چند عناصر بیرونی سازشوں کا شکار ہورہے ہیں۔ تحقیقات جاری ہے، معلومات شیئر کرتے رہیں گے انڈیا اور را واضح طور پر پاکستان کے عدم استحکام کے پیچھے ہیں، خاص کر بلوچستان کے عدم استحکام کیخلاف کام کرنیوالوں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ واضع رہے کہ کراچی یونیورسٹی دھماکے کے بعدچینی حکام نے پاکستانی فوج کی سیکورٹی کوناقص قرار دیا تھا جس پر عسکری حکام نے ردعمل پر بلوچ طلبا اور خواتین کو جھوٹے الزامات کے تحت جبری گمشدگی کاشکار بنا نے کا عمل شروع کردیا تاکہ چین کے غصے کو زائل کیا جاسکے کھٹ پتلی حکومت کی فوجی دم چلہ ترجمان کی اس توحین آمیز اور جگ ہنسا دینے والی بیان کی بلوچ حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو بلوچ خواتین کی مذید توحین قرار دیا ہے اور کہاہے کہ مزکوری ترجمان کی پٹہ راولپنڈی سے کنٹرول کی جارہی ہے تاکہ فوجی دہشت گردی پر پردہ ڈالا جاسکے اور انکے سیاہ کارناموں پر مٹی ڈالا جاسکے

Post a Comment

Previous Post Next Post