بلوچستان میں 2021 میں ہونے والے بم دھماکوں اور فورسز پر ہونے والے حملوں میں 2020 کی نسبت سے 89 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2020میں 137جبکہ رواں سال 260 واقعات رونما ہوئے۔
24دسمبر 2021تک بلوچستان میں واقعات سے متعلق اکھٹے کردہ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں سال 2021کے دوران 260 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
ان واقعات میں 138افراد ہلاک جبکہ 421افراد زخمی ہوئے رواں سال ایف سی پر سب سے زیادہ 105حملے ہوئے جن میں 68 افراد ہلاک جبکہ 149زخمی ہوئے۔
سال 2021کے دوران 24دسمبر تک 37آئی ڈی بم دھماکوں حملوں میں 20افراد ہلاک جبکہ 74زخمی ہوئے جبکہ دستی بم کے 36حملے ہوئے جن میں چھ افراد ہلاک جبکہ 73زخمی ہوئے رواں سال پولیس پر کل 13حملے ہوئے جن میں 8افراد ہلاک جبکہ 79زخمی ہوئے۔
اس سال بلوچستان میں 18راکٹ حملوں میں 2افراد ہلاک جبکہ 1زخمی ہوئے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں پر 9حملوں میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 12زخمی ہوئے،پاکستان فوج پر کئے گئے 4حملوں میں سات افراد زخمی ہوئے۔
لیویز پر 7حملوں میں 6افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوئے۔
این این آئی کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس سال پولیو ورکرز، ٹرینوں، سوئی گیس پائپ لائنز، کیسکو کے ٹاور ز، فرقہ وارنہ دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جبکہ سنی علماء، ہزار ہ برداری، آباد کاروں، بم حملوں،کوسٹ گارڈ پر حملوں کا ایک،ایک واقعہ رونما ہوا۔
محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں رواں سال یوفون اور پی ٹی سی ایل کے چھ ٹاور تباہ کئے گئے صوبے میں لینڈ مائن کے 8جبکہ اینٹی پرسنل مائن کے 9دھماکوں میں 4افراد لقمہ اجل بنے اور 16زخمی ہوئے اس سال سولین افراد پر حملوں کے حملے کے دو واقعات میں 6افراد ہلاک ہوئے۔
این این آئی کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق 2020میں 137واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ رواں سال کے دوران 260واقعات ہوئے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 123واقعات زیادہ ہیں۔