خضدار این پی جنرل سیکریٹری آئی ایس آئی کےدست راست کے خلاف پولیس تھانے میں درخواست دائر

این پی خضدار جنرل سیکریٹری آئی ایس آئی کےدست راست کے خلاف پولیس تھانے میں درخواست دائر خضدار( بیورورپورٹ)چیف آفیسر خضدار اور نیشنل پارٹی خضدار کے جنرل سیکریٹری ( آئی ایس آئی کے دست راست )کے درمیان ٹھن گئی ۔ ایک نے اسٹیج اور بھرے مجمع میں سنگین الزمات عائد کیئے اور چیف آفیسر کو ہدف تنقید بنایا ۔ دوسرے نے ساکھ متاثر ہونے پر مقدمہ اندراج کے لئے پولیس تھانے میں درخواست دائر کردی ۔ تفصیلا کے مطابق میونسپل کارپوریشن خضدار کے چیف آفیسرنذر زہری نے خضدار سٹی پولیس تھانے میں درخواست دائر کردی ہے کہ نیشنل پارٹی خضدار کے جنرل سیکریٹری نے پی ڈی ایم کے بھرے جلسہ میں مجھے گالم گلوچ کی عوام کو میرے خلاف اشتعال دینے کی کوشش کی اور اپنی تقریر کے آخر میں دھمکی آمیز لھجہ اختیار کیا کہ جس سے میری اور میرے خاندان کی دل آزاری ہوئی ۔ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار نے اپنی درخواست برائے مقدمہ اندراج میں کہا ہے کہ خضدار کے جنرل سیکریٹری اشرف علی مینگل ولد وزیرعلی مینگل ساکن سونیجی کوشک خضدار نے اپنے خطاب تقریر کے دوران سر عام چوک پر میرے خلاف بھرے جلسے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے اور گالی گلوچ کر کے میر ے خلاف خضدار کے شہریوں کو مشتعل کرتا رہا اور عوام میں میری عزت نفس کو مجروح کیا اور مقبولیت کو نقصان پہنچایا میر ے خلاف بے بنیادسنگین الزامات لگا کر میری سرکاری ملازمت کومنفی اثر پہنچایا ۔ مقرر نے بے بنیادالزامات لگاکر اپنی تقریر سے پورے ملک کی بدنامی کر کے کارِسرکار میں مداخلت کر کے اپنی ذاتی مفادات حاصل کرنیکی کوشش کی اور مزید اپنی تقریر کے آخر میں میر ے خلاف دھمکی آمیز لھجہ استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے میری اور میرے پورے خاندان کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔مقرر کے خلاف دعویدار ہوں قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ڈی ایم کا خضدار میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی جلسہ تھا جس میں نیشنل پارٹی خضدار کے جنرل سیکریٹری نے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار پر سنگین الزامات عائد کرکے علاقائی زبان میں انہیں ہدف تنقید بنایا تھا ، ایک ملازم کی تنخواہ بند کرنے و انہیں بے روزگار کرانے میں مبینہ طور پر ملوث قرار دیدیا نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے دوران تقریر یہ بھی کہا کہ جس ملازم کی تنخواہ بند کردی گئی تھی اس کی والدہ موذی مرض سےبجاں بحق ہوچکی ہے اس دوران ایک بچی کو بھی اسٹیج پر ساتھ لایا تھا جن سے تقریر کرائی گئی واضح رہے مزکورہ آئی ایس آئی کے کارندہ پر بلوچ آزادی پسندوں کا کہناہے کہ مزکورہ شخص مبینہ طورپر علاقائی ڈیتھ اسکوائڈ کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں اور اس قومی غدار کے ہاتھ بلوچ نوجوانوں کے قتل اور لاپتہ کرنے میں رنگے ہو
ئے ہیں Share this:

Post a Comment

Previous Post Next Post