تُربت(بلوچستان ٹوڈے نیوز) بلوچی زبان و ثقافت کے نامور فنکار، سروز کے استاد اور معروف ثقافتی شخصیت عارف مزار نے مالی مشکلات اور ادارہ جاتی عدم توجہی کے باعث تُربت کلچر سنٹر کو خیرباد کہنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں عارف مزار نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل رضاکارانہ بنیادوں پر کلچر سنٹر میں خدمات انجام دے رہے تھے، مگر نہ انہیں کسی منظور شدہ پوسٹ پر تعینات کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ محکمہ یا اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی مالی معاونت فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اپنے اہلِ خانہ اور بچوں سے سینکڑوں میل دور رہ کر بغیر تنخواہ کے گزارا کرنا اب ممکن نہیں رہا، جس کے باعث وہ دلبرداشتہ ہو کر ادارہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ گھر بیٹھ کر بھی بلوچی زبان، موسیقی اور ثقافت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
عارف مزار نے بتایا کہ ماضی میں بلوچی میوزک پروموٹرز سوسائٹی ان کی مالی معاونت کرتے رہے، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، تاہم کئی ماہ قبل اس تعاون کے بند ہونے کے بعد وہ بغیر کسی امدادی فنڈ یا مالی سہولت کے ادارے میں خدمات انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کیچ کے عوام، بلوچ قوم اور اپنے چاہنے والوں کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی پر دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی محبت اور اعتماد ان کا اصل سرمایہ ہے۔
عارف مزار کے اس اعلان پر ثقافتی اور ادبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ مختلف شخصیات نے بلوچی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے والے فنکاروں اور ماہرین کی سرپرستی پر زور دیا ہے۔
