خلیل کو شہید کیا گیا ہے باقی 3 فرزندان کو شہید کرو لاش بھی نہیں دو ،ناہی جھکوں گا نا ہی اپنی بھاہیوں کے خلاف استعمال ہو جاونگا،سردار نصیر موسیانی

 


خضدار ( نامہ نگار ) سردار نصیر جان موسیانی جس کو پیرا سرئی میں توڑنے کی ایک سر توڑ کوشش کی یہ وہ کوشش ہے جو گزشتہ تیس سال سے مختلف اشکال میں جاری ہے لیکن یہ بہت بھیانک کوشش تھئ 2 جون کو زہری کے علاقے بلبل میں ایک ایسے واقعہ کو جواز بنایا گیا جس کا سردار صاحب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں منظم پلان کے تحت سردار نصیر احمد موسیانی کی خلق کو ٹینکوں بکتر بند گاڈیوں سے گھیرا کیا گیا ہے اور گھر پر دستک دی گئی کے سردار کو نکالو جب سردار صاحب نہتے اور خوش مزاج انداز میں باہر آئے تو منظم منصوبے سے آنے والے ان پر بلا اشتعال ٹوٹ پڑیں اور دھکا دیکر زمین پر گرایا۔ سفید ریش باپ کی بے حرمتی دیکر بیٹوں نے ان یزدیوں کی ہاتھ روکنے کی کوشش کی تو براہ راست ان پر فائرنگ کی گئی اور ان کے جوان فرزند خلیل جان موسیانی کو گولی مار دیا گیا یزیدی لشکر کی سینکڑوں بدمعاشوں نے ان کے صاحبزادوں اور اقارب کو زخم کر کے گرفتار کیا اور سردار صاحب کو اور انکی فرزندوں کو قریبی اسکول میں لا کر 8 گھنٹہ یرغمال بنایا اور زخمی خلیل موسیانی کو دھوپ پر پڑیں رکھا ۔ بلا آخر شدید عموامی مزاحمت پر 8 گھنٹے بعد سردار نصیر احمد موسیانی کو رہا کیا گیا جبکے زخمی میر خلیل اور باقی گرفتار افراد کو مرکزی کیمپ لے جایا گیا۔ صبح اطلاع دی گئی کے سردار نصیر احمد موسیانی کو کہو ہمارے صاحب سے ملیں بیٹے کی لاش لے جاو باقی کو چھوڑ دیں گے لیکن سردار نصیر احمد نے جواب دیا کے ایک خلیل کو شہید کیا گیا ہے باقی 3 اور بیٹوں کو شہید کرو لیکن میں تمہارے پاس نہیں آونگا نہ ہی سر جھکاونگا۔
سردار نصیر احمد موسیانی کو تکلیف دینے کی کوشش کیوں کی گئی؟
زہری کے غیور عوام کو 9 مہینوں سے کرفیو کے زیر سایہ نان و شبینہ کے محتاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کے آپ لوگ بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف کام کرو لیکن یہ نا کرنے پر نا صرف زہری کے عوام بلکے سردار نصیر احمد موسیانی سے بلخصوص یہ کام کروانے کی کوشش کی گئی۔
بلوچستان میں غیرت مند سردار نصیر موسیانی جیسے فرزند موجود ہے جو جنگی منافع خوری کے بجائے بلوچ کی بقاء کی سوچ بھی رکھتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post