جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6070 واں روز جاری ، جبری لاپتہ محمود علی لانگو کے والدہ کی احتجاج میں شرکت

 


کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم دنیا کی طویل اور پرامن احتجاجی کیمپ آج بروز جمعرات کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6070 ویں روز میں داخل ہوگیا
اس دوران جبری لاپتہ محمود علی لانگو کی والدہ نے احتجاجی کیمپ آکر احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی کو ڈیڑھ سال مکمل ہوگئے، اس دوران انہوں نے حکومت اور انصاف کے فراہمی کے لیے بنائے گئے اداروں کے دروازوں کو مسلسل دستک دینے کے ساتھ ساتھ اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرارہی ہے، اس کے باوجود نہ انکا بیٹا اب تک بازیاب ہوگیا ہے اور نہ ہی انہیں ان کے بیٹے کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان کا خاندان شدید دباو کے شکار ہے، انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ انہیں ان کے بیٹے کے خیریت کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جائے
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ملکی آئین و قانون میں جبری گمشدگیوں کی کوئی گنجائش نہیں، اور ملکی قوانین ہر شہری کو ان کی بنیادی حقوق کی تحفظ کی یقین دھانی کراتی ہے، اسلیے یہ ملکی اداروں کی آئینی زمہ داری ہے کہ وہ جبری لاپتہ افراد اور ان کے لواحقین کے ساتھ ملکی قوانین کے تحت رویہ اختیار کرے، جو شہری کسی غیر قانونی اقدام میں ملوث ہے تو انہیں جبری لاپتہ کرنے کے بجائے، قانونی طریقے سے حراست میں لیا جائے، اور ان کے خاندان کو ان کی خیریت کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جائے، تاکہ غمزادہ خاندانوں کو جبری گمشدگیوں کی اذیت سے نجات مل سکے، اور بلوچستان میں جو بےچینی پھیلی ہوئی ہے، اسکا خاتمہ ہوں
نصراللہ بلوچ نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے اور محمود علی لانگو سمیت تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے میں اپنی کردار ادا کرے

Post a Comment

Previous Post Next Post