تنک مشکے تحصیل کا ایک مشہور خوبصورت گاوں ہے۔ مگر اس قدرت کی حسن رکھنے والے علاقہ کو دانستہ کھٹ پتلی حکمرانوں نے پسماند رکھا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگ ابتدائی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ، اس گاؤں میں نہ تو صحت کے ابتدائی مراکز ہیں نہیں اسکول اور دیگر مواصلاتی نظام پکی سڑکیں بجلی ،فون پانی سمیت دیگر ضروریات زندگی کی سہولیات جو میسر ہوں ۔
تاہم اس گاوں کے باسی بدتر توحین آمیز زندگی گزارنے پر اس وقت مجبور کئے گئے جب 2013 میں زلزلہ ہوا ۔ پاکستانی خونخوار فوج نے زلزلہ ہونے کے بعد نام نہاد بحالی کے نام پر قدم جمائے ۔ گویا لوگوں پر آسمانی قہر نازل ہوگئی ۔
ضلع آواران میں 2013 میں زلزلہ آیا تو یہاں بھی دیگر اضلاع کے دیہاتوں کی طرح گھروں کے ساتھ ساتھ لوگوں کا جانی مالی نقصان پہنچا ، جب فوج متاثرہ علاقوں سمیت آواران کا رخ کرنا شروع کردیا ، چونکہ گذر گاہ تنک کا علاقہ ہی تھا تو وہ یہاں سے گزرتے لوگوں کی بحالی بجائے دن بدن لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے چلے گئے ۔
آواران کے متاثرین سمیت یہاں کے لوگوں کیلے آنے والی امداد کی آمد دیکھ کر فوج نے جگہ جگہ کیمپ لگاکر ڈیرے ڈالنا شروع کردی ۔ جو متاثرین کیلے امدا د تھی وہ متاثرین کے بجائے فوجی کیمپوں میں جانے لگی۔
دوسری جانب فو جی کیمپوں پر بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں نے تواتر سے حملے شروع کردیئے ، اور ساتھ ہی ساتھ فورسز کو یہاں سے نکل جانے کا بھی حکم نامہ بیان زریعے دینا شروع کردیا ، تو فورسز نے بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسے آزادی پسندوں مسلح تنظیوں کا سامنا کرنے بجائے علاقہ مکینوں پر کھلم کھلا ظلم کرنا شروع کردیئے ۔
مختلف حربے استعمال کرکے فوج نے تنک کے مقامی لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگا کر انھیں اغوا کرکے لاپتہ اور تشدد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیا۔
چار مظلوم تنک کے باسیوں کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کیا گیا بعد ازاں ان پر مسلح تنظیم بی ایل ایف کا لیبل چسپان کرکے انکے خلاف FIR درج کی گئی ۔
حالانکہ وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ لوگ نہتے تھے انھیں فورسز نے اغوا کرکے جبری لاپتہ کیا تھا ۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے اعلیٰ حکام کو خوش کرنے اور اپنی حواس باختگی شدید ذہنی دباؤ کو چھپانے کیلے نہتے لوگوں کو موت کی منہ میں دھکیل دیا۔
یہ ظلم بربریت یہاں پھر بھی نہ رکی فورسز نے گاوں کے بچوں بڑوں ، ، بوڑھوں اور حتی کہ خواتین کے اوپر بھی ظلم کے پہاڑ گرانا شروع کردیئے ۔ ہر ماہ دوماہ میں تنک کے رہائشیوں کو بلاوجہ کیمپوں میں پیشی کے بہانے بلاکر الٹا لٹکانا شروع کردیئے ۔ حد یہ کہ لوگوں پر تشدد دوران، انھیں ننگا کرکے تیزاب ڈالنا شروع کردیئے ،
خواتین کی عزتین تار تار کرنا فوج کی معمول بن گئی ۔ جو بھی لوگ اب تک فورسز کے تشدد سے واپس گھروں کو لوٹے یا تو اسٹرکچر پر کراچی میں پڑے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں یا نفسیاسی مریض اور ذہنی توازن کھو چکے ہیں ۔
مقامی سرکاری ڈیتھ اسکوائڈ کے دلال میر ، ٹکریوں اور نام نہاد سردارواں کے اشاروم پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناکر انھیں لاپتہ کرکے جعلی مقابلہ میں مارنے کا دھمکی عام سی بات بن گئی ۔
اگر کوئی بھی رہائشی گاؤں سے تنگ آکر ہجرت کرنا چاہا تو فوج انھیں کہیں بھی جانے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ انھیں پھر جیل میں ڈالنا شروع کردیا دیا ۔
تازہ ترین عوام کے بے بسی کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم بی ایل ایف نے دو ریموٹ کنٹرول بموں سے فوج کو نشانہ بنایا ۔ جس کیمپ سے آبادی دو کلو میٹر دور ہے وہاں کے مکینوں کو کیمپ بلاکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ جب ظلم سے تنگ بوڑھوں نے فوج سے پوچھا کہ آپ اپنی مارنے والے کو بھی جانتے ہیں پھر ہم پر یہ ظلم بربریت کیوں تو انھیں بتایا گیا کہ وہ اعلی حکام کے حکم کے پابند ہیں ۔ یہ سب حکم اوپر سے انھیں دیاجارہاہے اور وہ فالو کر رہے ہیں ۔ وہ انھیں کے حکم کے پابند ہیں۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 2013 میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ جو ظلم کا آغاز کیاگیا تھا وہ ظلم اب بھی برقرار ہے ۔ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی مالی مدد بجائے انھیں اب تک فوج تشدد کا نشانہ بنارہی ہے ۔ جن کے کھیت ملیامیٹ اور گھر سیلاب کی بے رحم موجوں میں بہہ گئے ہیں ۔
ایسی دسیوں پوشیدہ درناک کہانیاں علاقہ کے مکین سینوں میں لئے ظلم سہہ رہے ہیں ۔ شاید مقبوضہ بلوچستان کے سینکڑوں دیہاتوں میں رہنے والے اس طرح فوج کی ظلم کا شکار ہیں اور غلام رکھے گئے ہیں مگر یہ ظلم کے داستان میڈیا انسانی حقوق کے اداروں سے اوجھل رکھے گئے ہیں ۔یا یہ سب جانتے ہو ئے میڈیا انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں کیوں کہ انھیں مظلوموں پر ترس نہیں اور نہ ان کی پرواہ ہے۔
تنک کے مکین بھی بلوچستان کے دیگر دیہاتیوں کی طرح دن رات ظلم کے اس ذہنی چکی میں پس رہے ہیں کہ انکے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟ کیا انہیں پاکستانی سمجھنا چاہیے؟ کس وجہ سے اور کیوں؟۔
