کوئٹہ کے غیور اور باشعور عوام کے نام بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا دردمندانہ اپیل

شال( اسٹاف رپورٹرز سے) بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے تین ہفتوں سے ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، جن میں ننھے شیر خوار بچے ، عمر رسیدہ اور بیمار مائیں اور بیٹیاں شامل ہیں، جو بے حکمرانوں اور مردہ ضمیر سیاستدانوں کے آنکھوں سے اوجھل ہیں- انھوں نے پمفلٹ میں لکھاہے کہ آئیے اس پر امن جمہوری جدوجہد میں ہمارے جائز اور آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے ہمارا ساتھ دیں، اگر آپ اس دھرنے میں بیٹھے ان ماؤں بہنوں کو اپنی مائیں بہنیں سمجھتے ہیں - انھوں نے کہاکہ اگر ہم سب متحد ہوکر اس ظلم، نا انصافی اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے جدوجہد کریں گے تو ہم ضرور ایک دن اسے روک پائیں گے - پمفلٹ میں کہا گیا ہے کبھی یہ نا سوچیں کہ میرے گھر سے جب کوئی لاپتہ نہیں ہے تو میں کیوں آواز اٹھاؤں؟ خدا نا کرے کل آپ کے گھر سے بھی کوئی لاپتہ ہو سکتا ہے یا آپ خود بھی اس ریاستی جبر کا شکار ہو سکتے ہیں، تو آئیے ہمارے ساتھ آواز اٹھائیے اس سے پہلے کہ آپ خود اٹھا لیے جائیں۔ زندان میں قید ہر کوئی مجرم نہیں ہوتا، آئیے ان کو انصاف دلانے اور زندگی دینے میں ہمارا ساتھ دیں، کسی بیگناہ انسان کی جان بچانا کسی جہاد سے کم نہیں، آئیے اس کار خیر میں ہمارا ساتھ دیں، اپنے ان بے بس ماؤں کے گرتے آنسوؤں کی خاطر، روتے بلکتے شیر خوار بچوں کی خاطر، عزت کے پیکر ان دوشیزاؤں کی خاطر جو کبھی اپنے گھر سے بھی نہیں نکلے ہیں آج سڑکوں پہ اپنے بھائیوں کی بازیابی کیلئے نعرے لگاتے رہتے ہیں، ان درد بری چیخوں کی سدا میں ہم آواز رہیں، جس زمین پہ آپ بستے ہو وہ ماں سما ہوتا ہے اس نے آپ کو گود لیا ہے پالا ہے، اس پہ آج خون کی حولی کھیلا جا رہا ہے کیا آپ اس زمین کو ناپاک ہوتے دیکھ سکتے ہیں؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس زمین کے ایک والی اور وارث ہونے کے ناطے اور ہم کو اپنی دکھی ماں بہن سمجھتے ہو تو آئیے اٹھیںے اور بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے اس پر امن جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں- انھوں اپیل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کل 12 اگست بروز جمعہ شام چار بجے کو کو بی ایم سی مین گیٹ کے سامنے سے ایک احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں، اپنی شرکت یقینی بنائیں -

Post a Comment

Previous Post Next Post