شال زیارت سانحہ خلاف دھرنے کو 30 دن مکمل این پی رہنماوں نے دھرنے میں شرکت کی

شال ( اسٹاف رپورٹر سے ) سانحہ زیارت بعد جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے گمشدہ پیاروں کی بحفاظت بازیابی اور ان کے زندگیوں کو ازیت گاہوں میں تحفظ فراہم کرنے کیلے گذشتہ ایک ماہ سے ریڈ زون ( نام نہاد وزیر اعلی اور گورنر) ہاوس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ گئی ہیں ۔ جن کا مطالبہ ہے کہ انکے تین مطالبات ،ماننے کیلے پاکستان کے آرمی چیف آکر انھیں یقین دلائیں کہ فوج آئندہ زیر حراست انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں نہیں ماریں گے بلکہ انھیں عدلتوں میں پیش کرکے باقاعدہ انھیں قانونی دفاع کا حق دیں گے ۔ مگر ایک ایک ماہ گذرنے باوجود انھیں سننے کیلے کوئی بااختیار حکومتی شخصیت باضابطہ طورپر نہیں آئے ہیں ۔ تاہم دیگر سیاسی سماجی پارٹی تنظیموں کے رہنماء اور کارکن اظہار یکجہتی کیلے آتے رہتے ہیں ، اس سلسلہ میں جمعہ کے روز نیشنل پارٹی کے رہنما ءبلوچستان کے صدر رحمت صالح بلوچ، مرکزی ترجمان اسلم بلوچ، بلوچستان کے سیکٹری جنرل خیر بخش بلوچ، بلوچ سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار، بلوچستان کے ترجمان علی لانگو اور معروف قانون دان ایڈوکیٹ علی احمد کرد آئے اور لاپتہ افرد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post