بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں رام مندر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

 


بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والے رام مندر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔

پیر کو مندر میں بھگوان کی مورتی کی رونمائی کی تقریب پرن پرتشتھا کے موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت سمیت کئی اعلیٰ شخصیات موجود تھیں۔

ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں قائم مندر کی افتتاحی تقریب کے دوران فوج کے ہیلی کاپٹروں نے گل پاشی کی

تقریب میں اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور دیگر سیاسی رہنماؤں سمیت بالی وڈ کی کئی مشہور شخصیات نے پرن پرتشتھا میں شرکت کی۔

پرن پرتشتھا وہ تقریب ہوتی ہے جس میں کسی مندر میں بھگوان کی مورتی کی رونمائی کی جاتی ہے۔

وزیرِ اعظم مودی نے رام مندر کے افتتاح کے موقع پر رام کی مورتی کی آنکھوں پر بندھی پٹی ہٹائی، مورتی کے پیر چھوئے اور پوجا کی۔

یاد رہے کہ مورتی رام کی پانچ سال کی عمر کی بنائی گئی ہے۔ اسے سونے چاندی اور جواہرات سے سجایا گیا ہے۔ مندر کے افتتاح کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی ہند میں جشن کا ماحول ہے۔

سرکاری اداروں میں عام تعطیل اور مختلف ریاستوں کی جانب سے الگ الگ پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں پارلیمانی انتخابات سے تقریباً تین ماہ قبل وزیرِ اعظم مودی نے ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کیا ہے۔

انہوں نے مندر کے افتتاح کے بعد وہاں موجود عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام صدیوں کے انتظار، تحمل اور قربانی کے بعد آگئے ہیں۔ "میں رام سے معافی مانگتا ہوں کہ انہیں اب تک ٹینٹ میں رہنا پڑا تھا مگر اب وہ ٹینٹ میں نہیں رہیں گے بلکہ مندر میں رہیں گے۔”

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ 22 جنوری صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک نئے عہد کے آغاز سے عبارت ہے۔ ان کے بقول آج سے ہزار سال بعد بھی لوگ اس تاریخ کو یاد کریں گے۔ ہم ایک عہد کے آغاز کے گواہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آج سے ایک ہزار سال بعد کے بھارت کی تعمیر کا آغاز کریں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ رام مندر کی تعمیر عدالتی حکم سے ہو رہی ہے اور عدالت نے اس مندر کے حق میں فیصلہ دے کر انصاف کا سربلند کیا ہے۔

واضع رہے کہ 1992 میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا اور پھر بھارتی سپریم کورٹ نے مسجد کے انہدام کے قصورواروں کو بری کرکے منہدم مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی ۔

یاد رہے کہ سولہویں صدی میں اس مقام پر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی اور ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ مسجد کی جگہ اصل میں رام کی جائے پیدائش ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post