بسیمہ سے برآمد دونوں نعشوں کی شناخت گریشہ سے جبری لاپتہ نوجوانوں کے طورپر ہوگئی

 

(متوفی جبری لاپتہ ارشاد ولد علم خان فائل فوٹو

خضدار/ بسیمہ ( نامہ نگاران ) خضدار گریشہ سے جبری لاپتہ دو نوجوانوں کی نعشیں بیسمہ سے برآمد ، جنھیں بدنام زمانہ کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے مختلف اوقات میں حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا تھا ۔علاقائی زرائع کے مطابق
30 اپریل 2026 کی صبح ضلع خضدار کے علاقے بدرنگ گریشہ سے 18 سالہ ارشاد علم خان کو مبینہ طور پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان کے گھر سے حراست میں لے لیکر لاپتہ کردیا  ،جبکہ چند دن بعد فورسز نے ارشاد کے قریبی رشتہ دار شبیر ولد صبرو سکنہ کوچو کو بھی حراست میں لینے کے بعد گمشدگی کا شکار بنایا تھا ۔ 
لواحقین نے سوشل میڈیا پر دونوں کی بازیابی کیلے فریاد بھی کی تھی ، مگر انکے بارے سی ٹی ڈی معلومات دینے سے قاصر رہا ۔لواحقین کے مطابق دونوں محنتی شریف اور ذمہ دار نوجوان تھے جو دن رات محنت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے انھیں آج جعلی مقابلے میں قتل کرکے لاوارث پھینک دیا گیا جو ریاست کی طرف سے غیر ذمہدارانہ دہشت گردانہ عمل ہے ۔
انھوں نے کہاہے کہ یہ محض دو نوجوانوں کی قتل نہیں بلکہ دو خاندانوں کا قتل عام ہے  ۔
آپکو علم ہے گریشہ بدرنگ کے رہائشی معراج اور دادشاہ کو بھی فورسز نے مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کا شکار بنادیاتھا جو تاحال لاپتہ ہیں ۔
انکے لواحقین نے خوف کا اظہار کیا ہے کہ کہیں انکے پیاروں کو بھی سی ٹی ڈی فورسز جعلی مقابلے میں نشانہ بناکر قتل نہ کردیں ،انھوں نے سیاسی سماجی حلقوں سے جانبحق نوجوانوں  کیلے انصاف اور گمشدہ دونوں نوجوانوں کی بحفاظت  بازیابی کیلے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے ۔


Post a Comment

Previous Post Next Post