ہرات ( ویب ڈیسک ) افغانستان میں خواتین کے لازمی لباس سے متعلق غیر قانونی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
افغان سکیورٹی حکام نے منگل کو بتایا کہ مغربی صوبے ہرات میں خواتین کے حقوق کے لیے کیے گئے ایک احتجاج کو منتشر کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین پر طالبان وحشی جنونی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ طالبان حکام نے ہلاکتوں یا گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ہرات پولیس کے ترجمان سید مسعود حسینی نے سرکاری خبر رساں ادارے باختر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جبریل علاقے میں ہونے والا یہ اجتماع “کشیدگی” کا باعث بنا اور ان کے مطابق حجاب کی مخالفت کے بہانے عوامی نظم و نسق متاثر ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق احتجاج اس وقت شروع ہوا جب امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے اہلکاروں نے ان خواتین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جو لازمی لباس کے قواعد کی مخالفت کر رہی تھیں۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح اہلکار مظاہرے کو منتشر کر رہے ہیں، اور مظاہرین میں مکمل نقاب پوش خواتین بھی موجود تھیں۔ ایک کلپ میں گولیوں کی آواز کے ساتھ لوگ جان بچا کر بھاگتے نظر آئے۔
