سانحہ ہوشاب ایف سی اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر درج

سانحہ ہوشاب ایف سی اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر درج
*بلوچستان ٹوڈے اردو * 18اکتوبر2021 کوئٹہ(نمائندہ خاص)سانحہ ہوشاپ میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین کے مطالبات کے مطابق ایف سی اہلکاروں کیخلاف چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی تھی بعد ازاں ان ایف سی اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے لوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بنچ نے ہوشاب میں مارٹر گولہ سے جاں بحق ہونے والے دونوں بچوں کو شہید قرار دے کر ڈپٹی کمشنر تربت،اسسٹنٹ کمشنر تربت اور لیویز تحصیلدار تربت کو معطل کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کو تاکید کی ہے کہ وہ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو مکمل سیکورٹی دے کر واپس علاقے تک پہنچائے،بنچ نے صوبائی حکومت کو واقعہ میں زخمی ہونے والے بچے کے علاج کے تمام تر ہسپتال اخراجات کی فوری ادائیگی کا بھی حکم دے دیا ہے۔گزشتہ روز آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ڈویژنل بنچ نے ہوشاب میں مارٹر گولہ پھٹنے سے جاں بحق ہونے والے دو بچوں کو شہید قرار دیتے ہوئے واقعہ میں زخمی اور کراچی میں زیر علاج تیسرے بچے کی تمام تر اخراجات کی صوبائی حکومت کو فوری ادائیگی کا حکم دے دیا ہے بنچ نے بچوں کی ورثا کی مدعیت میں مقدمہ اندراج کی بھی ہدایت کی ہے اور ریمارکس دیئے کہ لواحقین دھرنا ختم کرکے بچوں کی نعشوں کو ہوشاب لیجا کر ان کی تدفین کرے،عدالت نے ڈپٹی کمشنر تربت،اسسٹنٹ کمشنر تربت اور لیویز تحصیلدار تربت کی معطلی کے بھی احکامات جاری کیے۔سماعت کے بعد درخواست گزار کے وکلا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان،پراسیکوٹر جنرل،ڈی آئی جی اور دیگر آفیسران پیش ہوئے سماعت کے دوران عدالت نے جان کی بازی ہار جانے والے بچوں کو شہید ڈیکلیئر کیااور جو بچہ زخمی تھا اس کے علاج کیلئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ لیاقت نیشنل ہسپتال کو فوری طور پر بچے کے علاج معالجہ کے اخراجات کی ادائیگی کی جائے اس کے علاوہ یہاں سے ہوشاب تک بچوں کی نعشوں کو لے جانے والے افراد کو سیکورٹی فراہم کی جائے،ایمبولینسز کی فراہمی اوردیگر اخراجات کی ادائیگی کا بھی حکم دے دیا،اس کے ساتھ کرائمزبرانچ کے تین آفیسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو واقعہ کی تحقیقات کرے گی اس کے لئے وہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹا کرے گی اور گواہان و دیگر کے بیانات قلمبند کریں گے،عدالت نے بچوں کے دادا محراب خان کی مدعیت میں ان کی استدعا کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے جہاں سے واقعہ کی تحقیقات شروع کی جائے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post