کوئٹہ، سانحہ ہوشاپ، لواحقین نے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد دھرنا ختم کردیا
*بلوچستان ٹوڈے اردو *
18 اکتوبر 2021
کوئٹہ (نامہ نگار )سانحہ ہوشاپ کیخلاف پچھلے کئی روزسے گورنر ہاؤس کے سامنے لواحیقن کے ہمراہطلباء تنظیموں نے دھرنا دیا تھا اور مختلف شاہراہوں پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے تھے،
جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے 10اکتوبر 2021کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ھوشاپ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے عام آبادیوں پر مارٹر گولے فائر کیے گئے جس سے ہمارے دو کمسن بچے شرھاتون اور اللہ بخش شہید ہوگئے جبکہ ایک اور کمسن بچہ ناصر زخمی ہوگیا جو تاحال لیاقت نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد ہم لواحقین نے اپنے بچوں کے لاشوں کو لیکر تربت شہید فدا چوک پر دھرنے کا آغاز کیا۔ تین دن مسلسل ہم تربت شہد فدا چوک پر اپنے معصوم بچوں کے لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیئے ہوئے تھے لیکن حکومت اور کیچ انتظامیہ ہمیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے مسلسل ہمیں اس بات پر آمادہ کرنا کی کوشش کررہا تھا کہ آپ پیسے لیکر لاشوں کو دفن کریں۔ تربت میں حکومت اور انتظامیہ کے رویے سے مایوس ہوکر ہم اپنے بچوں کی لاشوں کو لیکر کوئٹہ میں گورنر ہاوس کے سامنے پہنچ گئے۔ آج پانچواں دن ہے کہ ہم اپنے کمسن بچوں کے لاشوں کے ساتھ ہیاں گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ اور ان سات دنوں پورے بلوچستان کے عوام اس سانحہ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ اس تمام دھرنے کے دوران حکومت بلوچستان اور انتظامیہ کی رویہ انتائی مایوس کن تھا۔ حکومت ہمیں انصاف فراہم کرنے اور ہمارے بچوں کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ہمارے بچوں کے قاتلوں کو تحفظ کررہا تھا ۔ جبکہ گزشتہ روز وزیر داخلہ بلوچستان کی پریس کانفرنس مکمل دروغ گوئی پر مبنی تھا جس میں انہوں نے کہا کہ لواحقین کے تمام مطالبات تسلیم کیے گئے اور سیاسی پارٹیاں اس دھرنے میں لواحقین کو استعمال کررہے ہیں۔ سب سے پہلے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے قاتل ایف سی کے اہلکار ہیں اور شروع دن سے ہمارے خاندان کا مطالبہ تھا کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کے گرفتار کیاجائے۔ جبکہ ہمیں نہ کوئی سیاسی پارٹی استعمال کررہا تھا اور نہ ہی دھرنے کے مطالبات سیاسی پارٹیوں کی جانب سے پیش کیے گئے تھے بلکہ سیاسی پارٹیاں صرف ہمیں اخلاقی طور پر سپورٹ کررہے جو ان کا فرض تھا۔ جبکہ وزیر داخلہ اور وزیر اعلی بلوچستان نے زحمت تک نہیں کی کہ وہ دومنٹ کے اظہار ہمدردی کے لیے ہمارے پاس تشریف لائے۔ اس کے برعکس حکوتی نمائندے میڈیا میں صرف دورغ گوئی کا سہارہ لے رہے تھے اور ہمارے دھرنے کو منتشر اور ناکام بنانے کے لیے مختلف قسم کے الزامات لگارہے تھے۔ گزشتہ روز سابقہ صدر پاکستان بار کونسل اور سنیٹر کا مران مرتضی صاحب ہمارے اس دھرنے میں تشریف لائے جنہوں نے ہمیں مکمل طور یقین دہانی کرائی کہ ہم قانونی طور پر اس کیس کو لڑے گے اور لواحقین کو انصاف فراہم کریں گے۔ کامران مرتضی صاحب نے بلوچستان ہائی کورٹ میں کانسٹیٹوشنل پٹشین (سی پی) جمع کروائی۔ اس کے بعد بلوچستان کے ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغانی اور جسٹس حمید بلو چ شا مل تھے جنہوں کامران مرتضی صاحب کی کانسٹیٹوشنل پٹشین پر سماعت کی جس میں انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، ڈی سی کیچ، ایڈوکٹ جنرل بلوچستان اور نائب تحصیل دار ھوشاپ کو طلب کیا۔ جس میں ہائی کورٹ بلوچستان نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی آر لواحقین کے مدعیت میں ایف سی کے خلاف درج کی جائے گی اور ڈسی کیچ، اے سی تربت اور نائب تحصیل دار ھوشاپ کو معطل کیا گیا اور لواحقین کو تحفظ فراہم کرنا کا حکم جاری کیا گیا۔ہم لواحقین سابقہ صدر پاکستان بار کونسل اور سنیٹر کا مران مرتضی صاحب اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور جسٹس حمید بلوچ کی بے حد مشکور ہے کہ جنہوں نے ہمارے بچوں کے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں ہماری مدد کی اور ہم غریبوں کی آواز بنے۔ ہم سابقہ صدر پاکستان بار کونسل اور سنیٹر کا مران مرتضی صاحب کی درخواست اور اپنے اہم مطالبات کی پورا ہونے کے بعد آج دھرنا ختم کرنے کا علان کرتے ہیں۔جبکہ ہم بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک مرتبہ پر اپیل کرتے ہیں ہمارے بچوں کے قاتلوں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے۔ ان قاتلوں کو سزہ دیکر ان معصوم شہیدوں کو روح تسکین پہنچایا جائے اس کے ساتھ ہم لواحقین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ اس احتجاج کی پاداش حکومت اور انتظامیہ ہمیں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنائے گی۔ اگر اس کے بعد ہمارے خاندان کے کسی بھی فرد کو حکومت یا سیکورٹی فورسز کی جانب سے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو ہم کسی بھی صورت خاموش نہیں رہے گے۔ہم لواحقین وہ تمام قوتوں کے بے حد ممنون و مشکور ہے کہ جنہوں نے اس پر امن دھرنے میں ہمارا بھر پور ساتھ دیا ہمارے آواز بنے۔آخر میں ہم ایک اہم اعلان کریں گے کہ ہم اپنے شہید بچوں کے کل صبح گیارہ بجے شہدائے قبرستان نیوکان میں دفنائے گے ہم بلوچستان بھر سے مظلوم عوام سے گزارش کرتے ہیں کل شہیدائے جنازے میں شریک ہوکر انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔
ہائیکورٹ کے حکم کے بعد، اے سی، ڈی سی، اور تحصیلدار کیچ کومعطل کر دیا، اور ملوث ایف سی اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج کر لئے گئے، جس کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا، دھرنے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کی پاس داری کرتے ہوئے یہ احکامات پہلے ہی جاری کر دیئے جاتے تو دھرنا دینے کی نوبت نہ آتی، انہوں نے مزید کہا کہ ہر ظلم کیخلاف مزاحمت جاری رہے گی، دھرنے کے اختتام پربلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء ماہ رنگ بلوچ نے سنئیر قانون دان کامران مرتضیٰ، بار ایسوسی ایشن کے ایڈوکیٹ راحب بلیدی ار دیگر بزرگوں کو بلوچی چادر پہنائی، کامران مرتضیٰ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ذمہ دار ن کیخلاف کارروائی کی گئی، اے سی، ڈی سی کو معطل کر دیا گیا ہے کیوں کہ وہ طاقتور قوتوں کیخلاف کارروائی سے ڈرتے ہیں، دیگر ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائیگی