کوہلو شادی کی تقریبات‘ناچ ڈھول کیخلاف جے یو آئی کامظاہرہ۔
بلوچ سیکولر معاشرے کو داغ دار بنانے کا ایجنسیوں کا نیاحربہ
*بلوچستان ٹوڈے اردو *
کوہلو (نامہ نگار)بلوچستان ضلع کوہلو میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا آمین قیصرانی کی قیادت میں شراب نوشی، فحاشی، عریانی شادی میں نانچ ڈھول اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی جسٹس شہید محمد نواز مری چوک سے برآمد ہوکر شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ٹریفک چوک میں مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا جہاں مظاہرین نے کوہلو ٹو ڈیرہ غازی خان کے شاہرہ بند کرکے شراب نوشی، فحاشی، عریانی شادی میں نانچ ڈھول، ملک بڑھتی ہوئی مہنگائی اور موجودہ حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی احتجاجی شرکاء سے جمعیت علماء اسلام کے سینئر و سیاسی رہنما میر باز محمد مری، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا آمین قیصرانی، مولانا کریم بخش مری، مولانا قاری خلیل احمد مری، مولانا حبیب اللہ، غازی خان مری اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج ضلع کوہلو میں شراب نوشی، فحاشی، عریانی شادی میں نانچ ڈھول اور ہر طرح کے جرائم و برائیاں عام ہوچکے ہیں ہم نے اپنے دین اور مذہب کو ترک کرکے کفار کے ا شاروں پر جانچنا شروع کردیا ہے آج ایک طرف ہمارے پڑوس میں لاشیں رکھیں ہوئے ہیں تو دوسری طرف شادی والے گھر میں ڈھول کے نام پر رقص کیا جا رہا ہے، مقررین کا مزید کہنا تھا کہ عزت و غیرت کی باتیں کرنے والے لوگوں نے عزت و غیرت کا جنازہ نکال دیا ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ جن ڈھول والے کے سامنے آپ کی بہن بیٹیاں نانچ رہی ہیں کیا ان کی آنکھیں نکال دی گئی ہیں؟؟ مقررین کا کہنا تھا کہ ضلع کوہلو میں آج ہر درخت اور چھتوں کے اوپر شراب کی بوتلیں ملیں گے اس قدر علاقے میں منشیات عام ہوچکا ہے کہ کمسن بچوں کے ہاتھوں شراب کی بوتلیں نظر آتے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور پولیس منشیات کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوچکا ہے جب ہم مقامی انتظامیہ اور پولیس سے منشیات کی شکایت کرتے ہیں تو بتایا جاتا ہے ہمیں تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے ہم انہیں بھی واضح بتانا چاہتے ہیں کہ اپنا فرض نبھا نہیں سکتے تو اپنا عہدہ چھوڑ دیں، مقررین نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کی شکل میں قوم پر عذاب نازل ہوا یہ ہمارے ہی گناہوں کا سلا ہے جو آج ہم پر ظلم و جبر حکمران مسلط ہوئے ہیں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب عوام کو فاقوں تک پہنچا دیا ہے، علماء کرام نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں شراب نوشی، فحاشی، عریانی شادی میں نانچ ڈھول اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بند کردیا جائے ہمیں افغان طالبان جیسے انقلاب لانے پر مجبور نہ کریں آخر میں علماء کرام نے شادیوں میں نانچ ڈھول بجانے والوں کے نکاح پڑھانے سے بھی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے جمعیت کے اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچ سیکولر معاشرہ کو داغ لگاکر بدنام کرنے کی نیاطریقہ ہے اور یہ سب آئی ایس آئی کا کارنامہ ہے ۔انھوں نے کہاکہ مذہبی دہشت گردوں کا جڑ پنجاب ہے وہا ں بدنام زمانہ ہیرامنڈی راونڈ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے وہاں انھیں اسلام کی خدمت نظر نہیں آتی اور بلوچ سماج کو دانستہ مذہبی دھبہ لگاکر بدنام کر رہے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ہم شروع دن سے کہتے آرہے ہیں کہ مدرسہ ناسور بنتے جارہے ہیں مگر کسی نے توجہ نہیں دی۔ قابض حکمران پنجابی فوج یہی چاہتی ہے کہ بلوچ کو سائنسی علوم سے دور رکھ کر مدرسہ میں الجھادو ۔جس کا ثمر یہی ہے ۔انھوں کہاکہ فحاشی کے اڈے مدرسہ بنے ہوئے ہیں خود مدرسہ میں اخلاقیات کو بحال کریں تو بہتری ہوگی ۔جہاں تک منشیات اور چوریوں کی بات ہے یہ مثبت عمل ہے اس کی حمایت کرتے ہیں ۔