واشک سے فوج کے ہاتھوں لاپتہ معصوم بچے 34گھنٹہ گذرنے باوجود بازیاب نہیں ہوسکے۔بیمار ماں کو اب تک معلوم نہیں کہ بچے جبری لاپتہ ہیں ۔
*بلوچستان ٹوڈے اردو *
19اکتوبر 2021
آواران ، واشک ( نامہ نگاران) ضلع واشک کے علاقہ ٹوبہ سے فورسز نے پیر کے الصبح لال بخش نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مار کر دس سالہ صنم جمیل اور 6سالہ گزین جمیل کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا ۔ بتایاجارہاہے کہ اس دوران بچوں کی دادی اور دوسرے خاندان والوں نے مذاحمت کی تھی تو انھیں فوج نے ماراپیٹاتھا ۔اور بچوں کو جبری لاپتہ کردیا تھا ۔اہل خانہ کے مطابق بچوں کے لاپتہ ہونے کو 34 گھنٹہ گذرگئے ہیں لیکن تاحال وہ لاپتہ ہیں ۔ عوامی حلقوں نے پاکستان آرمی اور ایف سی کی اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی عمل کرار دیاہے اور کہاہے کہ سانحہ ہوشاب میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایاگیا اور یہاں بدتہذیب آرمی اور ایف سی نے ان معصوم بچوں کیلے بڑی کاروائی کرکے پنجگور گچک سے بھی ریگولر آرمی کو بلاکر ایسے چھاپہ ماراگیا جیسے یہاں احسان اللہ احسان سے بھی خطرناک مجرم موجود ہوں ۔ انھوں نے کہاہے کہ اگر پاکستان کو ٹوٹنے کا خطرہ ان بچوں سے تاھ تو ٹوبہ میں قائم فوجی کیمپ کے میجر ہمیں کہتے ہم خود بچوں کو ان کے ہاں پیش کرتے ۔علاقائی لوگوں نے فوج کے اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انھیں انتہائی بذدل کراردیکر ہائی کورٹ اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس نیچ حرکت کیلے فورسز کو لگام ڈالیں ،جس طرح سانحہ ہوشاب میں ایف سی کی ناک کاٹی گئی ۔انھوں نے کہاکہ ہم بھی جانتے ہیں انھیں بچوں کے باپ یاخاندان کے افراد سے تکلیف ہوگا۔ لیکن یہ طریقہ نہیں ایٹمی طاقت کہہ کر بغلیں بجانی والی فوج معصوم بچوں کو مارٹر سے ھلاک یا اسطرح فوجی آپریشن کرکے گرفتار کرے یہ خود باجوہ اور فوج کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ ہم نے خواب میں بھی اس طر ح نہیں سوچاتھا کہ پاکستانی مسلمان فوج اخلاف اور تہذیب سے اتنی گرجائی گی ۔
اہل خانہ نے بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز تنظیم ،بلوچ یکجہتی کمیٹی ، سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا سمیت انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس سے قبل کہ یہ بچے وحشی فورسز کے ہاتھوں خوف سے مرجائیں یا انکی بیمار ماں جسے اب تک نہیں بتایاگیاکہ آپ کے بچے لاپتہ ہوگئے ہیں کچھ ہوجائے ۔ بہتر ہے اب ہماری آواز بنیں اور ان معصوموں کو رہا کروائیں۔